ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کی جانب سے عازمین حج کے لئے تربیتی کیمپ 

مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کی جانب سے عازمین حج کے لئے تربیتی کیمپ 

Fri, 05 Aug 2016 20:02:35    S.O. News Service

 علمائے کرام نے عازمین حج کو دئیے مفید اور کار آمد مشورے 

 بھٹکل،( ایس او نیوز ) 5،اگست:حج بڑی سعادت ہے اس لئے عازمین حج پر ضروری ہے کہ وہ اپنی نیتوں کو خالص کریں۔مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کی جانب سے ’’ حج تربیتی کیمپ ‘‘ میں عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشاد نائطے ندوی نےان خیالات کا اظیار کیا ۔ مولانا نے کہا کہ حج کے مخصوص دنوں کے علاوہ بھی حجاج کرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ گناہ اور بے حیائی کی باتوں سے مکمل اجتناب کریں،مولانانے مزید کہا کہ ایسا کوئی بھی عمل سرزد نہیں ہونا چاہئے جس سے اللہ کی ناراضی مول لینی پڑے،اس سلسلے میں بڑی فکر کی ضرورت ہے کہ کہ ہمارا کوئی عمل خلاف شریعت نہ ہو ،مولانا نے زور دے کرکہا کہ حج کااصل مقصد یہ ہے کہ حج کےبعدآدمی کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوں،مولانانے عازمین حج سے سفر کےآداب بھی بیان کئے اور پورے سفر میںؓ دعاؤں کااہتمام کرنے کی گزارش کی،

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب طلحہ سدی باپا نے آداب سفر بیان کئے ،انہوں نے عازمین سے کہا کہ ایام حج سے پہلے مکہ پہنچنے والے عازمین اپنی تمام تر توانائیاں عرفہ کے دن کے لئے بچا کر رکھیں تا کہ حج کا اصل ہماری تھکاوٹ کی نذرنہ ہو،انہوں نے سابقہ برسوں میں پیش آنے والے حادثات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کبھی بھی حجاج کرام حادثہ کی طرف نہ جائیں بلکہ اپنی جگہ پر ہی اطمینان سے رہیں،اجلاس سے مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین  کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے بھی خطاب کیا اورانہوں نے عمرہ اور حج کے طریقہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی،مولانا نے کہا کہ اگر عازمین کو مسائل معلوم نہ ہوں تو وہ علمائے کرام سے رجوع کر کے مسائل معلوم کریں،

اجلاس سے  خطاب کرتے ہوئے مولانا ایمن قمری نے مدینہ منورہ کے آداب بیان کئے،انہوں نے کہا کہ حج چند مخصوص اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ سراسر جذباتی سفر ہے لھذا اس کا حقیقی لطف لینے کے لئے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں۔ صدر مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین سید حسن سقاف نے اجلاس کی غرض و غایت بیان کی ،تلاوت اور بعت کے بعد جعفر ندوی نے استقبال کی رسم ادا کی اورصادق اسرمتا نے نظامت کی ، اجلاس میں بڑی تعداد میں خواتین اور خاصی تعداد مین مرد حضرات موجود تھے،جماعت کی طرف سے تواضع کا بھی معقول نظم کیا گیا تھا۔

 

 


Share: